ممبئی،4/ مئی (ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت نے مالیگاؤں کے ساکن ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد کو اورنگ آباد اسلحہ ضبطی معاملے میں قصور وار ٹہراتے ہوئے 14/ سالوں کی قید بامشقت کی سزا سنائی تھی حالانکہ اس پر سے مکوکا قانون ہٹا دیا گیا تھا لیکن اسلحہ چھپانے میں دیگر ملزمین کی مدد کرنے کا ان پر الزام عائید کیا گیا تھا۔۔ امراوتی جیل سے رہائی کے بعد ڈاکٹر شریف نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے اس کی سزاء کیخلاف ہائی کورٹ میں داخل اپیل اور نچلی عدالت میں اسے مہیا کرائی گئی قانونی امداد پر جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء واحد تنظیم ہے جو منظم طریقے سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار مسلم نوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کرتی ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں مسلم نوجوانوں کو قانونی مدد حاصل ہورہی ہے۔
آج صبح گیارہ بجے ڈاکٹر شریف نے دفتر جمعیۃ علماء میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم احسن اعظمی، جنرل سیکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی، سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار اعظمی،،خازن مفتی محمد یوسف، وکلاء انصار تنبولی، شاہد ندیم، عبدالخالق فارقلیط و دیگر سے ملاقات کی اور بتایا کہ حالانکہ اسے نچلی عدالت سے 14/ سالوں کی قید ہوئی تھی لیکن اس کے جیل میں مثبت رویہ اور جیل میں قید قیدیوں کی مدد کرنے، انہیں تعلیم کی جانب راغب کرنے اور اچھا انسان بننے کی ترغیب دینے کے عوض جیل حکام نے اس کی سزاء میں ا یک سال سے زائد کی تخفیف کردی۔ڈاکٹر شریف نے دوران گفتگو مزید کہا کہ نچلی عدالت نے انہیں محض شک کی بنیاد پر سزا دی ہے اور انہیں امید ہے کہ ہائی کورٹ سے انہیں انصاف ضرور حاصل ہوگا اور انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے قانون کی تعلیم مکمل کرلی ہے اور اب وہ جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے بے گناہوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی گرفتاری کے بعد مرحوم ایڈوکیٹ شاہد اعظمی نے انہیں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر انہوں نے عمل کیا۔
واضح رہے کہ خصوصی مکوکا عدالت نے 20/ ملزمین میں سے 12/ مسلم نوجوانوں کو غیر قانونی سرگرمیوں اور آرمس ایکٹ کے تحت مجرم قراردیا تھا وہیں اس معاملے کا سامنا کررہے ۸/ دیگر ملزمین کو با عزت بری کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے۔
عدالت نے جن 12 مجرمین کو قصور وار ٹھہرایا تھا اس میں ابو جندال سمیت محمد عامر شکیل احمد، محمد مظفر تنویر،جاوید احمد عبدالمجید انصاری، افضل خان نبی خان، ڈاکٹر محمد شریف شبیر احمد، بلال احمد عبدالرزاق، سید عاکف سید ظفر الدین، افروزخان شاہد خان پٹھان، فیروز تاج الدین شیخ، شیخ عبدالنعیم، فیصل عطاالرحمن شیخ شامل تھے جبکہ خصوصی جج ایس این انیکر نے جن ملزمین کو نا کافی ثبوت کی بناء پربا عزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا تھا اس میں فیروز دیشمکھ کے علاوہ سید زبیر سید احمد قادری، عبدالعظیم عبدالجمیل شیخ، ریاض احمد محمد رمضان،خطیب عمران عقیل احمد، شیخ وقار محمد نثار، محمد صمد شمشیر خان پٹھان اور محمد عقیل محمد اسماعیل مومن، شامل تھے۔
ڈاکٹر شریف سے دوران ملاقات گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیۃعلماء نے نچلی عدالت سے سزا پانے والے تمام مسلم نوجوانوں کی جانب سے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی ہے جو زیر سماعت ہے نیز جمعیۃ علماء حکومت مہاراشٹر کی جانب سے ملزمین کی سزاؤں میں اضافہ کی جو عرضداشت داخل کی ہے اس کا بھی جواب دینے کے لیئے تیار ہے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ انہیں امید ہیکہ ڈاکٹر شریف کی طرز پر ہی 14/ سالوں کی سزا پانے والے مظفر تنویر کی بھی رہائی عمل میں آئے گی جس نے سزاء کے بیشتر ایام میں جیل میں گذارچکے ہیں اور ان کی جلد رہائی کے لیئے متعلقہ حکام سے خط و کتابت کی گئی ہے جس پر جلد ہی خصوصی عدالت فیصلہ صادر کریگی۔